چندے کو اپنے ذاتی کام میں خرچ کردیا تووہ گناہ گار ہو گااور اب اس پر واجِب ہے کہ جتنی رقم اِس نے اپنے ذاتی کام میں خَرچ کی ہے اُتنی ہی رقم چندہ دِہَندہ (یعنی جس نے چندہ دیا تھا اُس) کو واپس کرے کہ چندہ ابھی چندہ دِہَندہ (یعنی چندہ دینے والے) کی مِلک میں باقی تھا اور اگر اِس نے بِلا اجازتِ چندہ دِہَندہ (دِ۔ہَن۔دَہ) اپنی طرف سے اس کام میں رقم خرچ کر دی جس کام کے لئے چندہ لیا جا رہا تھا تو بھی بَری نہ ہوگا ۔کیوں کہ اِس نے حقیقت میں جو چندے کی رقم لی تھی وہ تو اپنے کسی کام میں خرچ کر کے ہلاک کر چکاتھا۔ اب جورقم پلّے سے دے رہا ہے وہ چندہ دینے والے کو دینی ہے یا پھر اس سے نئی اجازت لینی ضَروری ہے۔
میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:'' ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس بات کی تحقیق کی ہے جوچندہ لوگوں سے مَصرفِ خیر (یعنی بھلائی کے کاموں)کے لئے جمع کیا جاتا ہے وہ دینے والوں کی مِلک پر باقی رہتا ہے۔