Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
31 - 84
چندے کو اپنے ذاتی کام میں خرچ کردیا تووہ گناہ گار ہو گااور اب اس پر واجِب ہے کہ جتنی رقم اِس نے اپنے ذاتی کام میں خَرچ کی ہے اُتنی ہی رقم چندہ دِہَندہ (یعنی جس نے چندہ دیا تھا اُس) کو واپس کرے کہ چندہ ابھی چندہ دِہَندہ (یعنی چندہ دینے والے) کی مِلک میں باقی تھا اور اگر اِس نے بِلا اجازتِ چندہ دِہَندہ (دِ۔ہَن۔دَہ) اپنی طرف سے اس کام میں رقم خرچ کر دی جس کام کے لئے چندہ لیا جا رہا تھا تو بھی بَری نہ ہوگا ۔کیوں کہ اِس نے حقیقت میں جو چندے کی رقم لی تھی وہ تو اپنے کسی کام میں خرچ کر کے ہلاک کر چکاتھا۔ اب جورقم پلّے سے دے رہا ہے وہ چندہ دینے والے کو دینی ہے یا پھر اس سے نئی اجازت لینی ضَروری ہے۔

     میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:'' ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس بات کی تحقیق کی ہے جوچندہ لوگوں سے مَصرفِ خیر (یعنی بھلائی کے کاموں)کے لئے جمع کیا جاتا ہے وہ دینے والوں کی مِلک پر باقی رہتا ہے۔
(فتاوٰی رضویہ، ج 16 ، ص 244)
 فتاوٰی عالمگیری میں ہے :'' کسی شخص نے لوگوں سے مسجد بنانے کے لئے چندہ جمع کیا اور ان دراہِم (روپیوں)کو اس نے اپنی ذاتی ضَروریات پر خرچ کر لیا پھر اس کے بدلے میں مسجِد کی ضَرورت میں اپنا مال خرچ کیا تو ایسا
Flag Counter