Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
30 - 84
جس کام کے لئے چندہ لیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ توبہ بھی کرے۔

    میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:''اس پر توبہ فرض ہے اور تاوان ادا کرنا فرض ہے جتنے دام اپنے صَرف (ذا تی ا ستِعمال)میں لایا تھا اگر یہ اس مسجد کا مُتَوَلّی تھا تو اُسی مسجد کے تیل بتّی میں صَرف کرے دوسری مسجد میں صَرف کردینے سے بھی بَرِیُّ الذِّمَّہ نہ ہو گا اور اگرمُتَوَلّی نہ تھا تو جس نے اسے دام (چندہ) دئے تھے اُسے واپَس کرے کہ تمہارے دئے ہوئے داموں (یعنی چندے) سے اِتنا خرچ ہوا اور اتنا باقی رہا تھا کہ تمہیں دیتا ہوں۔اس لئے کہ اگر وہ مُتَوَلّی ہے توتسلیمِ تام ہو گئی( یعنی سپردکرنا مکمَّل ہو گیا) ورنہ چندہ دینے والے کی مِلک پر باقی ہے۔     (فتاوٰی رضویہ ، ج 6 1 ، ص 461 )
    اگر چندہ لینے والا غیرِ مُتَوَلّی ہے یا جس چیز کے لئےچندہ لیا گیا ہے اس کا کو ئی مُتَوَلّی نہیں یاابھی مسجد یا مدرَسہ وغیرہ بنانے کی ترکیب ہے اور اس کے لئے چندافراد چندہ جمع کر رہے ہیں،تو ایسی صورت میں چُونکہ کوئی مُتَوَلّی نہیں لہٰذا جب تک چندہ اس کام میں صَرف نہیں ہو جاتا جس کے لئے لیا گیا ہے تو اُس وقت تک چندہچندہ دِہَندہ(یعنی چندہ دینے والے) کی مِلک پر باقی رہے گا لہٰذاان چندہ وُصول کرنے والوں میں سے کسی نے بھی
Flag Counter