Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
29 - 84
ہے۔
  (فتاوٰی رضویہ ج 16 ص485،486)
چندہ کی رقم ذاتی کام میں خَرچ کر ڈالی تو؟
سُوال:     مسجِد یا مدرَسے(مَد۔رَ۔سے) کیلئے کیا ہوا چندہ اگر مُتَوَلّی اپنے ذاتی استِعمال میں لے آئے تو اُس کیلئے کیا حکم ہے؟اگر یہی کام غیر مُتَوَلّی سے سر زد ہو تو کیا کرے؟جلدی میں اُتنی ہی رقم پلّے سے چندے میں ڈالدی اُس کیلئے کیا حکم ہے ؟
جواب : چندے کے احکام مُتَوَلّی اور غیر مُتَوَلّی کے لئے الگ الگ ہیں۔اگر مسجِد یا مدرَسہ موجود ہیں اور ان کا کوئی مُتَوَلّی بھی ہے تو ان کی مزید تعمیر کے لئے یا ان کے مَصارِف (اَخراجات) کے لئے جو چندہ مُتَوَلّی کے پاس جمع ہوتا ہے یہ مسجد یا مدرَسے کے لئے ہِبَہ ہوتا ہے اورمُتَوَلّی،مسجد یا مدرَسہ کی طرف سے وَکیل بِالقَبْض ہوتا ہے لہٰذا چندے کے مُتَوَلّی کے قبضے میں آتے ہی ہِبَہ تام(یعنی ہِبہ مکمَّل) ہوجاتا ہے اور چندہ مسجد یا مدرَسے کی مِلک میں آ جاتا ہے اور مالک کی مِلک سے نکل جاتا ہے۔ اگر مُتَوَلّی اس چندے کو اپنے ذاتی کام میں خرچ کریگا تو  گناہ گار ہو گا کہ اس نے مالِ وقف کو اپنے ذاتی کام میں خرچ کیا اور اس پرلازم آئے گا کہ جتنا روپیہ اس نے اپنے ذاتی کام میں خرچ کیا ہے اُتنا اپنے پلّے سے اُسی کام میں لگا دے
Flag Counter