Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
28 - 84
اسے تنخواہ ِ مُدَرِّسین وغیرہ میں صَرف کر سکتے ہیں کہ یہ اَشیاء مَصارفِ مسجِد(یعنی مسجِد کے اَخراجات)سے نہیں۔جب خود واقِف کے لئے اِحداث (یعنی نئی چیز شروع کرنا) وقف میں جائز نہیں تو محض اجنبی شخص کیلئے کیسے جائز ہو سکتا ہے اور اگر اس نے ان چیزوں کی بھی صَراحَۃً (یعنی واضِح لفظوں میں)اجازت شرائط ِوقف میں رکھی یا مَصارِفِ خیر کی تعمیم (تَع۔مِیم) کر دی(یعنی ہر قسم کا اچھا کام کر سکتے ہیں یہ کہدیا) یا یوں کہا کہ دیگرمَصارفِ خیر حسبِ صَوابدیدِ مُتَوَلّی (یعنی مُتَوَلّی کو دیگربھلائی کے مصارف میں خرچ کرنے کے کلّی اختیارات دیئے) تو ان میں بھی مُطْلقاً یا حسبِ صَوابدیدِ مُتَوَلّی (یعنی مُتَوَلّی کی صوابدید کے مطابِق ) صَرف ہوسکے گا ۔ غَرَض ہرطرح اس کے شرائط کا اِتِّباع کیا جائے گا اور اگر شرائط معلوم نہیں تو اس کے مُتَوَلّیوں کا قدیم(یعنی شروع ہی ) سے جو عملدر آمد رہا اس پر نظر ہو گی ،اگر ہمیشہ سے اِفطاری و شیرینی و روشنیٔ ختم(شریف) کُل یا بعض میں صَرف ہوتا رہا (تو)اس میں اب بھی ہو گا ورنہ اَصلاً نہیں اور اِحداثِ مدرَسہ(یعنی نیا مدرَسہ بنانا ) بالکل ناجائز ۔ قدیم سے ہونے کے یہ معنیٰ کہ اس کاحُدُوث(یعنی وُجُود میں آنا) ( معلو م نہ ہو اور اگر معلوم ہے کہ یہ بِلا شَرط بعد کو حادِث ہوا(یعنی پہلے نہ تھا بعد میں جاری ہوا ) تو قدیم نہیں اگر چِہ سو100برس سے ہو اگر چِہ نہ معلوم ہو کہ کب سے