حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن کے ایک مبارَک فتوے کا اِقتِباس غور سے مُلاحَظہ فرما لیجئےاِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اِس سے بَہُت کچھ سیکھنے کو ملیگا۔ چُنانچِہ فرماتے ہیں: یہاں حُکمِ شَرعی یہ ہے کہ َاوقاف (یعنی وقف کی ہوئی چیزوں)میں پہلی نظر شَرطِ واقِف(یعنی وقف کرنے والے کی شرط) پر ہے (کہ)یہ زمین و دکانیں اس نے جس غَرَض کے لئے مسجِد پر وَقف کی ہوں ان میں صَرف کیا جائے گا اگر چِہ وہ اِفطاری و شیرینی و روشنیٔ ختم(شریف) ہو اور اس کے سوا دوسری غَرَض میں اُس کاصَرف کرنا حرام حرام سخت حرام اگر چِہ وُہ بِناءِ مدرَسۂ دِینیہ ہو۔واقِف کی شَرط ایسے ہی واجِبُ العمل ہے جیسے شارِع کی نَص(یعنی قراٰن وحدیث کا حکم ) ۔