Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
27 - 84
حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن کے ایک مبارَک فتوے کا اِقتِباس غور سے مُلاحَظہ فرما لیجئےاِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اِس سے بَہُت کچھ سیکھنے کو ملیگا۔ چُنانچِہ فرماتے ہیں: یہاں حُکمِ شَرعی یہ ہے کہ َاوقاف (یعنی وقف کی ہوئی چیزوں)میں پہلی نظر شَرطِ واقِف(یعنی وقف کرنے والے کی شرط) پر ہے (کہ)یہ زمین و دکانیں اس نے جس غَرَض کے لئے مسجِد پر وَقف کی ہوں ان میں صَرف کیا جائے گا اگر چِہ وہ اِفطاری و شیرینی و روشنیٔ ختم(شریف) ہو اور اس کے سوا دوسری غَرَض میں اُس کاصَرف کرنا حرام حرام سخت حرام اگر چِہ وُہ بِناءِ مدرَسۂ دِینیہ ہو۔واقِف کی شَرط ایسے ہی واجِبُ العمل ہے جیسے شارِع کی نَص(یعنی قراٰن وحدیث کا حکم ) ۔
(دُرِّمُختار ج 6 ص 664)
حتّٰی کہ اگر اس نے صِرف تعمیرِ مسجِد کے لئے (رقم) وَقف کی تومَرمّتِ شِکَست و ریخت(یعنی ٹوٹ پھوٹ کی مرمّت) کے سوا مسجِد کے لوٹے چَٹائی میں بھی صَرف نہیں کر سکتے(اور) اِفطاری وغیرہ(تو) دَرکنار ، اور اگر مسجِد کے مَصارِفِ رائجۂ فی المساجِد (یعنی مسجِدوں میں جن چیزوں میں خرچ کرنے کا عُرف ہو اُن) کے لئے وَقف ہے تو بَقَدرِمَعہُود(یعنی عُرف کی مقدار میں )شیرینی و روشنی ختم (شریف) میں صَرف (یعنی خرچ کرنا)جائز(مگر) اِفطاری و مدرَسہ میں ناجائز، نہ
Flag Counter