| چندے کے بارے میں سوال وجواب |
اورجہاں تک بچّوں کے کھانے کا تعلّق ہے تو عُمُومی عُرف یِہی ہے کہ افطاری بھیجنے والوں کی طرف سے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا لہٰذا بچّوں کا کھانا جائز ہے۔
مسجِد کی بچی ہوئی اِفطاری کا کیا کرے؟
سُوال:لوگوں کا مسجِد میں بھیجا ہواافطاری کا جو سامان تھا ل میں بچ گیا اُس کا کیا کیا جائے؟
جواب: عُرف یہی ہے کہ دینے والے بچا ہوا واپَس نہیں لیتے لہٰذا مُنتَظِمِین کی صَوابدید پر ہے کہ دوسرے دن کے لئے بچانا چاہیں بچالیں ،خود کھا لیں ، دوسروں کو کِھلا دیں یا تقسیم کر دیں۔
مسجِد کے چندے کے مَصارِف
سُوال:مسجِد کے صَندوقچے کاجَمع شُدہ چندہ نیز جُمُعہ یا بڑی راتوں کو مسجِد کیلئے جو چندہ ملتا ہے وہ کس طرح استِعمال کیا جائے؟
جواب :مسجِد کے نام پر ملا ہوا چندہ وہاں کے عُرف (یعنی رَواج )کے مطابِق استِعمال کرنا ہو گا مَثَلاً امام، مُؤَذِّن او ر خادِم کی تنخواہیں ، مسجِد کی بجلی کا بِل ، عمارتِ مسجِد یا اُس کی اَشیا کی حسبِ ضَرورت مَرَمَّت ،ضَرورتِ مسجِد کی چیزیں مَثَلاًلوٹے، جھاڑو، پائیدان ، بتّی،پنکھے،چَٹائی وغیرہ۔ میرے آقا اعلیٰ