Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
25 - 84
کھانا حرام ہے۔ وَقف کا مال مِثلِ مالِ یتیم ہے جسے ناحَق کھانے پر اللہ تبارَکَ وَ تَعالٰی نے پارہ4 سورۃُ النِّساء کی آیت نمبر10 میں ارشاد فرمایا:
 اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ نَارًا ؕ وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیۡرًا ﴿٪۱۰﴾
(پ 4 النساء 10)
ترجَمۂ کنزالایمان:وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتاہے کہ بھڑکتے دھڑے (1)میں جائیں گے۔
    ہاں مُتَوَلِّی دانِستہ غیر روزہ دار کو شریک کریں تو وہ بھی عاصی و مُجرم و خائِن ومستحقِ عَزل(یعنی خِیانت کرنے والے اور برطرف کئے جانے کے لائق) ہیں۔ رہا اکثر یا کل(افطاری کرنے والوں) کامُرَفَّہُ الحا ل(یعنی خوش حال، کھاتا پیتا) ہونا اس میں کوئی حَرَج نہیں( کہ) اِفطاری مُطْلَق روزہ دار کے لئے ہے اگر چِہ غنی(یعنی مالدار) ہو جیسے سَقایہ مسجِد(يعنی مسجد کے برتن ) کا پانی ہر نَمازی کے غسل و وُضو کو ہے اگر چِہ بادشاہ ہو۔

                 (فتاویٰ رضویہ ج 16 ص487)
    البتَّہ اگر کسی مسجِد یا عَلاقے کا عُرف یِہی ہو کہ روزہ دار اور غیر روزہ دار دونوں کوافطاری کھلاتے ہوں تو وہاں غیر روزہ دار کو بھی اجازت ہوگی ۔
(1) بھڑکتے دھڑے یعنی بھڑکتی آگ
Flag Counter