Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
24 - 84
مُتَعَلِّق فرماتے ہیں: چندہ جس کا م کے لئے لیا گیا ہو جب اس کے بعد بچے تو وہ انھیں کی ملک ہے جنہوں نے چندہ دیا ہے۔کَمَا حَقَّقْنَاہُ فِی فَتَاوٰ ینا (جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں کی ہے )ان کو حصہ رَسَد واپس دیا جائے یا جس کام میں وہ کہیں صَرف کیا جائے ''    (فتاوٰی رضویہ ج16 ص 247)
مسجِد کی اِفطاری کا مَسئَلہ
سُوال: رَمَضانُ المبارَک میں لوگ روزہ داروں کیلئے مسجِد میں جو اِفطاری بھجواتے ہیں اُس میں سے غیر روزہ دار کا کھانا کیسا؟ اگر گناہ ہے تو کیا اِس کا  گناہ مُنتَظِمِین پر بھی ہو گا؟
جواب: جو اِفطاری روزہ داروں کیلئے بھیجی جاتی ہے وہ غیر روزہ دار نہیں کھا سکتا ۔ بِالفرض کوئی مریض یا مُسافِر ہے یا کسی وجہ سے اُس کا روزہ ٹوٹ چکا ہے تو وہ اُس افطاری میں شریک نہ ہو ۔میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: اِفطاری میں غیر روزہ دار اگر روزہ دار بن کر شریک ہوتے هیں مُتَوَلّیوں پر الزا م نہیں ۔ بُہتَیرے غنی(یعنی مالداروں) فقیربن کر بھیک مانگتے اور زکوٰۃ لیتے ہیں۔ دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی کہ ظاہِر پر حکم ہے اور لینے والے کو حرامِ قَطعی ہے یونہی ان غیر روزہ داروں کو اس کا
Flag Counter