Brailvi Books

چندے کے بارے میں سوال وجواب
22 - 84
کوئی دوسرا کام نہ پائیں تو فقراء پر تصدُّق کریں ۔چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰحضرت،اِمامِ اَہلسنّت، ولیئ نِعمت ، عظیمُ البَرَکت، عظيمُ المَرتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِئ سنّت ، ماحِیِئ بِدعت، عالِمِ شَرِيْعَت ، پيرِ طريقت  ،باعثِ خَير وبَرَکت، حضرتِ علامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاویٰ رضویہ جلد16صَفْحَہ 206پرفرماتے ہیں:چندہ کا جو روپیہ کام ختم ہوکر بچے لازم ہے کہ چندہ دینے والوں کو حصہ رسد واپس دیا جائے یا وہ جس کام کے لئے اب اجازت دیں اس میں صَرف ہو ، بے ان کی اجازت کے صَرف کرنا حرام ہے ،ہاں جب ان کا پتا نہ چل سکے تو اب یہ چاہئے کہ جس طرح کے کام کے لئے چندہ لیا تھا اسی طرح کے دوسرے کام میں اُٹھائیں (یعنی استِعمال کریں)مَثَلاً تعمیرِمسجد کا چندہ تھا مسجد تعمیر ہوچکی تو باقی بھی کسی مسجد کی تعمیر میں اُٹھائیں ،غیر کام مَثَلاً تعمیرِ مدرسہ میں صرف نہ کریں اور اگر اسی طرح کا دوسرا کام نہ پائیں تو وہ باقی روپیہ فقیروں کو تقسیم کردیں ۔     (فتاوٰی رضویہ ج16 ص206)
کئی اَفرا د سے لیا ہوا چندہ بچ جائے تو کیا کرے؟
سُوال: مخصوص مَدّ مَثَلاًمدرَسے کی تعمیر کیلئے کئی افراد سے چندہ لیاگیا ہو اور اُس میں
Flag Counter