ہورہے تھے کہ اتفاق سے سکھر میں دعوتِ اسلامی کے ایک مبلّغ سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے خصوصی شفقتیں فرمائیں اور مجھے دعوتِ اسلامی اور بانیٔ دعوت اسلامی کی سیرت سے متعلق بتایا تو میں بہت متأ ثر ہوا اور دعوت ِاسلامی کے مشکبار مدنی ماحول میں آنے جانے لگا۔ جلد ہی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے مرید ہوگیا پھر آہستہ آہستہ گھروالوں کو دامن عطار سے وابستہ کیا۔عطا ری نسبت کیا میسر آئی ہماراگھر سنّت کا گہوارہ بن گیا اب گھر میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کیسٹ بیانات کی پر سوز آوازیں گونجنے لگی جس سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ معلومات کا ڈھیروں ڈھیر خزانہ ہاتھ آنے لگا اور ہمیں حق وباطل کے بارے میں پتا چل گیا۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار برکتیں نصیب ہوئیں جن میں سے ایک بہار پیش خدمت ہے کہ ایک دفعہ والدہ محترمہ کی طبیعت بہت خراب ہوگئی جس کی وجہ سے ہم سب پریشان ہوگئے، خوش قسمتی سے ایک دن مجھے خواب میں سیدی غوثِ پاک عَلَیہ رَحمۃُ اللہِ الرَّزَّاق کی زیارت ہوئی توآپ رحمۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیہ نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں حاضری کے لئے رہنمائی فرمائی۔میں آپ دَامَتْ بَرکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اپنی والدہ کے لئے دعا کرائی جس کی وجہ سے والدہ کی طبیعت کافی بہتر ہو گئی مگر کچھ عرصہ بعد دوبارہ والدہ کی طبیعت بہت خراب ہوگئی ۔میں نے والدہ سے پوچھنے کے بعد امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ