نے کوئی جواب نہ دیا پھر تھوڑی ہی دیر میں ان پر غشی طاری ہوگئی ہم انہیں فوراً اسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے چیک اپ کے بعد کہا کہ انہیں تو انتقال کیے کافی دیر ہوچکی ہے مگر حیرانگی کی بات یہ تھی کہ ان کی زبان اب بھی حرکت کر رہی تھی چنانچہ انہیں گھر لے آئے اور ان کی وصیّت کے مطابق اسلامی بہن سے غسل کی ترکیب بنوائی چونکہ رات کافی ہوچکی تھی اس لیے صبح تدفین کا سلسلہ رکھا گیا، یوں والدہ کاجنازہ رات بھر گھر میں رکھا رہا مگر اس کے باوجود ان کا چہرہ تروتازہ ہی رہا گویا کہ ابھی وضوکر کے سوئی ہوں۔اگلے دن تقریباً 10:30 بجے امی جان کی نمازِ جناز ہ ہوئی۔ خوش قسمتی سے جنازے میں ایک مدنی اسلامی بھائی بھی آئے ہوئے تھے، انہوں نے ہی نماز جنازہ پڑھائی،پھر درودوسلام کی صداؤں میں امی جان کو سپردِ خاک کر دیاگیا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ والدہ کی قبر پر حاضری کی سعادت ملتی رہتی ہے مگر میں جب بھی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں توایسا محسوس ہوتا ہے کہ قبر سے ابھی بھی میری والدہ کی ذِکر کی صدائیں آرہی ہیں۔ یہ سب دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کی برکتیں ہیں اللہعَزَّوَجَلَّ میر ی والدہ اور ساری امتِ مُسْلِمہ کی مغفر ت فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے دعوت ِاسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کی برکت سے جہاں فکر آخرت نصیب ہوتی ہے وہیں فضولیات و