r{8} ذکر اللہ کا انوکھاانداز
کوٹ ادّو (ضلع مظفر گڑھ، پنجاب) کے مقیم اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا لُبِ لُباب ہے کہ میری والدہ محترمہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ تھیں۔پابندی سے دعوتِ اسلامی کے تحت اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کیا کرتی تھیں۔اسی مدنی ماحول کی برکت سے انہیں ذکر اللہ کی پیاری پیاری عادت نصیب ہوئی۔ ان کا معمول تھا کہ ہر پیر شریف کو عصر تا مغرب بڑے ہی اہتمام کے ساتھ ذکراللہ میں مستغرَق رہتیں۔ایک دن حسب معمول پیر شریف کے دن یاد الہٰی میں محو تھیں کہ اچانک سب گھر والوں کو بلایا اور وعظ ونصیحت کرتے ہوئے کہنے لگیں ’’ہمیشہ کی جدائی کا وقت قریب آگیا ہے لہٰذامجھے غسل دینے کے لیے فلاں اسلامی بہن کو بلانا اور اگر میری طبیعت ناساز ہوجائے تو ڈاکٹر کے پاس نہ لے جانا۔‘‘ والدہ محترمہ کی ان باتوں سے سب کے چہرے مرجھا گئے ،پھر کہنے لگیں کہ میرے ساتھ سب مل کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرو، امی جان کے حکم پر سب گھر والے ذکر اللہ میں مشغول ہوگئے ۔دورانِ ذکر اچا نک ان کی حالت خراب ہونے لگی مگر ان کی زبان پر اللہ اللہ کی نورانی صدائیں جاری تھیں۔ سب گھر والوں نے ذکر موقوف کردیا اور والدہ محتر مہ سے ان کی طبیعت کے بارے میں پوچھنے لگے مگر انہوں