6نومبر 2004 ء بروز اتوار صبح کے وقت اچانک ان کی طبیعت خراب ہوگئی گھر والوں کو جمع کرکے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میرے منہ پہ خاکِ مدینہ اور میری قبر میں عہد نامہ اور شجرہ شریف رکھ کر کفن پر میرے پیر کانام لکھ دینا ۔ہم انہیں کاہنہ نو کے قریب اسپتال میں لے گئے اور وہاں ظہر تک زیر علاج رہیں جب میں ظہر کی نماز پڑھ کر آیا تو دیکھا کہ طبیعت بہت ناساز ہے لہٰذا ان کے سرہانے کھڑے ہوکر چالیس روحانی علاج میں سے ’’یَاسَلَا مُ‘‘ کاورد پڑھنے لگااس دوران والدہ بھی مسلسل سورہ اخلاص،کلمہ طیّبہ،اور دوردِ پاک کا ورد کرتی رہیں آواز آہستہ تھی اس کے باوجود میں نے خود سنا کہ مرنے سے پہلے یہ کہا کہ میرا سلام میرے پیر صاحب کو پہنچا دینا،میرا جنازہ فیضانِ مدینہ میں پڑھوانا،میرے ایصالِ ثواب کے لیے نعت شریف اور سورہ یٰسین شریف پڑھنا جب میں نے آخری بار یاسلام کی تسبیح ختم کی تو والدہ کو آب زم زم شریف کاایک چمچ پلایا اسے پی کر انہوں نے مسکراتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور ان کی روح قفس ِعنصری سے پرواز کر گئی۔وفات کے تقریباً دو ہفتے بعد میں نے اپنی والدہ کو خواب میں دیکھا اور انہیں سلام کیا توانہوں نے سلام کاجواب دیتے ہوئے مجھے گلے سے لگا لیااور کہنے لگیں اللہ ھو پڑھا کرو، اللہ ھو پڑھا کرو، اللہ ھو پڑھا کرو،کیونکہ اپنی زندگی میں وہ دوردِ پاک اور اللہ ھو کاورد زیادہ کیا کرتی