انفرادی کوشش کے ذریعے کئی مسلمانوں کو گناہوں کے دلدل سے نکال کر مدنی ماحول سے وابستہ کر دیا ،گھر کی خواتین دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں جانے لگیں اور مدنی برقعے کا اہتمام کرنے لگیں ، ایک دن اس نوجوان اسلامی بھائی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی گھر والے بے حدپریشان ہوئے دوائی وغیرہ کی ترکیب بنائی مگر ان کی حالت سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑنے لگی ۔دعوتِ اسلامی کے مشکبا ر مدنی ماحول کی برکت تھی کہ ان کی زبان پرآہ و بکااور گلہ شکوہ صادر ہونے کے بجائے اللہ اللہ اور کَلِمَۂ طَیِّبَہ لااِلٰہَ اِلاَّاللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کی پرنورصدائیں جاری تھیں کہ اچانک ان پر نزع کی کیفیت طاری ہونے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ، یوں وہ اسلامی بھائی بھری جوانی میں اس دنیا فانی سے دار بقا کی طر ف کوچ کر گئے اورجاتے جاتے زبانِ حال سے تمام نوجوانوں کو یہ پیغام دے گئے کہ
ایک دن مر نا ہے آخر موت ہے کر لے جو کرنا ہے آخر مو ت ہے
گھر میں کہرام مچ گیامگر ان کے والد صاحب نے گھر کی خواتین کو نوحہ کرنے سے باز رکھا اورانہیں صبر کی تلقین کرتے رہے۔اس نوجوان مبلّغ دعوتِ اسلامی کو علاقے کے قبر ستان میں سپر د خاک کر دیا گیا،ان کے والد صاحب