Brailvi Books

بُری سنگت کا وبال
28 - 32
یکسر غافِل، دنیا کی بَدمَسِتیُوں میں شاغِل تھا اور اسی دارِ نا پائیدار کو اپنے لیے سب کچھ سمجھ بیٹھا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں دینی ماحول اور بنیادی دینی معلومات سے بھی کوسوں دور تھا۔ حالت یہ تھی کہ نماز پڑھنا بھی نہیں آتی تھی اورنہ ہی وضو، غسل کا صحیح طریقہ معلوم تھا۔مجھے باڈی بلڈر بننے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ اسی مقصد کے لیے کلبوں میں جایا کرتا اور ہر وقت انہی تصورات و خیالات میں کھویا رہتا تھا کہ مجھے بہت بڑا باڈی بلڈر بنناہے، بڑے بڑے مقابلوں میں کھڑے ہو کر اپنے جسم کی نمائش کروانی ہے ۔میری خزاں رسیدہ زندگی میں بہار کچھ اس طرح آئی کہ ایک دن ہمارے محلے کی انوارِ مدینہ مسجد میں ایک اسلامی بھائی تشریف لائے۔ نماز کے بعد انھوں نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ َبرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی مایا ناز تالیف ’’فیضانِ سنت‘‘ سے درس دیا۔ اتفاق سے اسی دن میں بھی مسجد میں نماز اداکرنے چلاگیا تھا۔ نماز کے بعد جب اس اسلامی بھائی کا درس سناتو درس کے پُرتاثیر الفاظ میرے دل میں گھر کر گئے۔ اس کے بعد میں پابندی کے ساتھ مسجد میں نماز کے لیے آنے لگا اور درس میں بھی شرکت کرنے لگا وہ اسلامی بھائی بھی پابندی کے ساتھ درس دینے کے لیے آیا کرتے اور درس کے آخر میں سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت بھی دیا کرتے تھے ۔ ایک دن میں نے ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ جو اُن دنوں جامع