Brailvi Books

بُری سنگت کا وبال
19 - 32
ہونے سے پہلے میں بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ منسلک تھا۔ اسی وجہ سے میں عقائد کے معاملے میں بھی اِفراط وتَفرِیط کا شکار ہو چکا تھا۔ میرے اُجڑے گلشن میں کچھ اس طرح بہار آئی کہ ایک دن میں نماز ادا کرنے مسجد گیا تو کیا دیکھتا ہوں سفید لباس پہنے اور سبز عمامہ باندھے ایک نوجوان نماز کے بعد ضَخِیم (موٹی) کتاب تھامے درس دینے لگا۔ میں بھی ایک اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش کے نتیجے میـں شریک ہو ہی گیا۔ سنّتوں کے پابند مبلغ اسلامی بھائی کے درس کا دل جیت لینے والا سادہ انداز اور اصلاحِ امت کے جذبے سے سرشار ہو کر لکھا گیا ایک ایک لفظ میرے دل و دماغ کو روشن کرتا چلا گیا۔ میرے دل میں اس کتاب اور اس کے لکھنے والے کی محبت پیدا ہو گئی۔ درس کے بعد میں نے کتاب کی جانب دیکھا تو اس پر جَلی حروف میں فیضانِ سنّت اور اس کے نیچے ہی اس کے مؤلف کا نام یوں درج تھا ’’شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ۔ ‘‘میں تو ان کی تحریر سن کر ہی ان کا ہو چکا تھا۔ اب میں فیضانِ سنّت کے درس میں شریک ہونے لگا جس سے میرے دل میں بھی عشقِ مصطفیٰ کی شمع روشن ہو گئی۔ سنّتوں کے پابند اسلامی بھائیوں کے ساتھ رہنے کی برکت سے میں نے اپنے تمام گناہوں خاص طور پر بدمذہبی سے توبہ کی اور بدمذہبوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ