کرتے ہیں کہ میرے ایامِ زِیست غفلتوں میں بیت رہے تھے۔ کبھی کبھار نمازادا کرنے کی سعادت حاصل ہوجایا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ نمازِ عشاء اداکرنے کے بعد میں جب مسجد سے نکلنے لگا تو یکایک ایک آواز (قریب قریب تشریف لائیے) میرے کانوں سے ٹکرائی جسے سن کر میرے قدم وہیں رک گئے۔ میں جونہی آواز کی جانب متوجہ ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مسجد میں ایک طرف مبلغِ دعوت ِاسلامی فیضانِ سنّت تھامے نماز سے فراغت پانے والے نمازیوں کو علمِ دین کے نور سے روشن ومنور کرنے کے لیے بلا رہے تھے۔ کئی نمازی ان کے قریب جا کر بیٹھ گئے ، مجھے بھی تَجَسُّس ہوا کہ آخر یہ کیا بیان کریں گے؟ یوں میں بھی قریب جاکر بیٹھ گیا۔ مبلغِ دعوتِ اسلامی حمد وثنا کے بعد صلوۃ و سلام کے صیغے پڑھوانے لگے۔ حاضرین کے ساتھ میں نے بھی بلند آواز سے درودو سلام پڑھنے کی سعادت حاصل کی، پھر مبلغ نے درودِ پاک پڑھنے کی فضیلت بیان کی اور فیضانِ سنّت سے درس شروع کر دیا۔ ان کے میٹھے انداز میں فیضانِ سنّت کے پر تاثیر الفاظ سن کر میرے اندر ایک ہلچل مچ گئی۔ اپنی اصلاح کا جذبہ میرے دل میں موجزن ہو گیا۔ درس کے اختتام پر تمام عاشقانِ رسول آپس میں ملاقات کرنے لگے ۔میں نے بھی آگے بڑھ کر مصافحہ کیا، اسی دوران مبلغِ دعوت ِاسلامی نے شفقت فرماتے ہوئے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی تر غیب دلائی، میرادل تو پہلے ہی درسِ