Brailvi Books

بُری سنگت کا وبال
10 - 32
سے درس دے رہے تھے جبکہ ان کے قریب کچھ نمازی بڑی توجہ سے درس سن رہے تھے۔ میں بھی عاشقانِ رسول کے قرب میں جا بیٹھا۔ درس کے پرتاثیر الفاظ میرے دل میں اترتے چلے گئے، میری آنکھوں پر بندھی غفلت کی پٹی کھل گئی ، میرے غبار آلود دل سے گناہوں کی گَرد دور ہونے لگی، مجھے اپنی گزشتہ زندگی کے قیمتی لمحات ضائع ہونے پر افسوس ہونے لگا۔ آہ! میری زندگی کا ایک بڑا حصہ غفلت میں گزر گیا۔ زندگی کے وہ ایّام جو میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھے آخرت کی تیاری کے لیے عطا فرمائے تھے وہ بربادیٔ آخرت کے کاموں میں گزار دیئے، ماضی کو یاد کر کے مجھ پر شرمندگی اور ندامت کی کیفیت طار ی ہو گئی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں نے اسی وقت صدق دل سے توبہ کی اورعزم بالجزم کرلیا کہ آئندہ گناہوں سے بچتا رہوں گا اور رضائے ربُّ الانام کے کام کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔ اپنے چہرے پر آقائے نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلیہ واٰلہٖ وَسلَّم کی محبت کی نشانی داڑھی شریف بھی سجانے کی نیت کرلی۔ 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

{۳}محبت بھری صدا
	بابُ المدینہ (کراچی )کے مشہور علاقے اورنگی ٹاؤن میں رہائش پذیر ایک اسلامی بھائی اپنے مدنی ماحول سے وابستگی کے احوال کچھ اس طرح بیان