وابستہ ہونے سے قبل میں سرتاپا گناہوں کی آلودگیوں سے لتھڑا ہوا تھا۔ میری زندگی کے قیمتی لمحات گنا ہوں کی نذر ہورہے تھے ، کون سا ایسا گناہ تھا جس سے اپنے نامہ اعمال کو سیاہ نہ کیا ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے اچھی آوازکی نعمت سے نوازا تھا، مگر افسوس ! میں اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی اس نعمت کو تلاوتِ قراٰن، نعت رسول مقبول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں صرف کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے بجائے گانوں کے بے ہودہ اشعار گُنگُنانے میں استعمال کر رہاتھا۔ مجھے عِشقِیہ و فِسقِیہ اَشعار گانے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ آواز چونکہ اچھی تھی اس لیے تھوڑے ہی عرصے میں گلوکاری میں مشہور ہوگیا۔ لوگ مجھے سنگر (گلوکار )کی حیثیت سے جاننے لگے۔ قرب وجوار کے فنکشنوں میں مدعو کیا جانے لگا، دن بدن ملنے والی شہرت نے مجھے قبر وآخرت سے یکسر غافل کر دیا تھا۔ میرے دل و دماغ پرتو ہر وقت بڑا گلوکار بننے کا بھوت سوار رہتا۔آہستہ آہستہ ملکی سطح پر ہونے والے کنسرٹس concerts(ناچ رنگ کی محفلوں ) میں بلایا جانے لگا یوں کچھ ہی عرصے میں میرا شمار نمایاں گلوکاروں میں ہونے لگا۔ مجھے اپنا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ تو قسمت اچھی تھی جو دعوتِ اسلامی کامشکبار مدنی ماحول مل گیا، ورنہ شاید بربادیٔ آخرت کا شکار ہوجاتا،سبب کچھ اس طرح بناکہ ایک دن علاقے کی مسجد میں نماز پڑھنے جانا ہوا ،جہاں ایک اسلامی بھائی فیضانِ سنّت