Brailvi Books

برے خاتمہ کے اسباب
7 - 31
    ''مِنھاجُ العابِدین''میں ہے، حضرتِ سیِّدُنا فُضَیل بن عیاض رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے ایک شاگِرد کی نَزع کے وَقت تشریف لائے اور اُس کے پاس بیٹھ کر سورہ یٰس شریف پڑھنے لگے۔ تو اُس شاگِرد نے کہا:''سورہ یٰس پڑھنا بند کر دو۔ ''پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے کلمہ شریف کی تلقین۱؎ فرمائی۔و ہ بولا:میں ہرگزیہ کلمہ نہیں پڑھوں گا میں اِس سے بَیزار ہوں۔ ''بس انہیں الفاظ پر اس کی موت واقِع ہوگئی۔ حضرتِ سیِّدُنافُضَیل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنے شاگِرد کے بُرے خاتِمے کا سخت صدمہ ہوا۔ چالیس ۴۰ روز تک اپنے گھر میں بیٹھے روتے رہے۔ چالیس ۴۰ دن کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ فِرِشتے اُس شاگرد کو جہنَّم میں گھسیٹ رہے ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُس سے اِستِفسار فرمایا: کس سبب سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیری مَعرِفَت سَلب فرمالی؟ میرے شاگردوں میں تیر اتو مقام بَہُت اونچا تھا! اُس نے جواب دیا: تین
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ

۱؎ مرنے والے کو یہ نہ کہا جائے کہ کلمہ پڑھ بلکہ تلقین کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سکرات والے کے پاس بُلند آواز سے کلِمہ شریف کاوِرد کیاجائے تاکہ اسے بھی یاد آجائے۔
Flag Counter