اس کے تین رکن ہیں ایک اعتِراف ِ جرم دوسرے نَدامت تیسرے عزمِ ترک (یعنی اِس گناہ کو ترک کر دینے کا پکّا ارادہ) اگر گُناہ قابلِ تَلافی ہو تو اِس کی تَلافی ( یعنی نقصان کا بدلہ) بھی لازِم ہے مَثَلاً تارِک صلوٰۃ( یعنی بے نَمازی) کی توبہ کیلئے پچھلی نَمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے۔(خَزَائِنُ الْعِرْفَان ص۱۲ بمبئی) اور اگرحُقُوق العباد تَلَف کئے ہیں تو توبہ کے ساتھ ساتھ اُن کی تَلافی ضَروری ہے مَثَلاً ماں باپ، بہن بھائی، بیوی یا دوست وغیرہ کی دل آزاری کی ہے تو اُس سے اِس طرح مُعافی مانگے کہ وہ مُعاف کر دے۔ صِرف مسکرا کر SORRY کہدینا ہر معاملہ میں کافی نہیں ہوتا!