تدبیر سے ہرمسلمان کو لرزاں وترساں رہنا چاہئے، نہ جانے کون سی مَعصیَّت (یعنی نافرمانی) اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کے قَہر وغَضَب کو اُبھاردے اور ایمان کیلئے خطرہ پیدا ہوجائے۔ بس ہر وقت اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے آگے عاجِزی کا مُظاہَرہ کرتے رہئے۔ زَبان کو قابو میں رکھئے کہ زیادہ بولتے رہنے سے بھی بعض اوقات منہ سے کلماتِ کفر نکل جاتے ہیں اور پتا نہیں لگتا، ہروَقت ایمان کی حفاظت کی فکر کرتے رہنا ضروری ہے میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کا ارشاد ہے: عُلَمائے کرام فرماتے ہیں، جس کو (زندگی میں ) سلبِ ایمان کا خوف نہ ہو نَزع کے وَقت اُس کا ایمان سَلب ہوجانے کا شدید خطرہ ہے۔
(الملفوظ حصہ ۴ ص۳۹۰ حامد اینڈ کمپنی مرکز الاولیاء لاہور)