حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں: سکرات کے و قت شیطان اپنے چَیلوں کو مرنے والے کے دوستوں اور رشتے داروں کی شکلوں میں لیکر آپہنچتا ہے۔ یہ سب کہتے ہیں، بھائی! ہم تجھ سے پہلے موت کا مزہ چکھ چکے ہیں،مرنے کے بعد جو کچھ ہوتا ہے اس سے ہم اچّھی طرح واقِف ہیں۔ اب تیری باری ہے، ہم تجھے ہمدردانہ مشورہ دیتے ہیں کہ تُو یہودی مذہب اِختیارکرلے کہ یہی دین اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہے۔ اگر مرنے والا ان کی بات نہیں مانتا تو اسی طرح دوسرے احباب کے رُوپ میں شیاطین آ آ کر کہتے ہیں، تُو نصاریٰ کا مذہب اِختیار کرلے کیونکہ اِسی مذہب نے (حضرت) موسیٰ (عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام) کے دین کو منسوخ کیا تھا۔ یوں ہی اَعِزّہ و اَقرِباء کی شکل میں جماعَتیں آ کر مختلف باطل فِرقوں کو قبول کرلینے کے مشورے دیتی ہیں۔ تو جس کی قسمت میں حق سے مُنحَرِف ہونا (یعنی پھر جانا) لکھا