سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صاحِب جن کا بظاہِر کو ئی بَہُت بڑا نیک عمل نہ تھا، وہ فوت ہوگئے تورسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے صَحابہ کرام علیہم الرضوان کی موجو دَ گی میں فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخِل کردیا ہے۔اس پرلوگ مُتَعَجِّب ہوئے کیونکہ بظاہِر ان کا کوئی بڑاعمل نہ تھا۔ چُنانچِہ ایک صَحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُن کے گھر گئے اوران کی بیوہ سے پوچھا کہ اُن کا کوئی خاص عمل ہمیں بتائیے، تواُنہوں نے جواب دیا :اورتوکوئی خاص بڑاعمل مجھے معلوم نہیں، صِرف اتنا جانتی ہوں کہ دن ہویا رات، جب بھی وہ اذان سنتے توجواب ضَروردیتے تھے۔ ( تاریخ دمشق لابن عساکر ج ۴۰ ص ۴۱۲۔۴۱۳مُلَخَّصاً دار الفکربیروت)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدْ قے ہماری مغفرت ہو۔ اذان وجواب اذان کے تفصیلی اَحکامات کی معلوما ت کیلئے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رِسالہ فیضانِ اذان( 32 صَفَحات ) ضَرورمُلاحَظہ فرمایئے۔