| برے خاتمہ کے اسباب |
صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فتاویٰ رضویہ شریف کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: جو اذان کے وَقت باتوں میں مشغول رہے اس پر مَعاذَاللہ(عَزَّوَجَلَّ)خاتمہ بُرا ہونے کا خوف ہے۔ (بہار شریعت حصّہ ۳ ص ۴۱ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
اذان کا جواب دینے والا جنّتی ہو گیا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب اذان شُروع ہوتو باتیں اور دیگر کام کاج موقوف کرکے اس کا جواب دینا چاہئے۔ ہاں اگر مسجِد کی طرف جارہا ہے یا وُضو کررہا ہے تو چلتے چلتے اور وُضو کرتے کرتے جواب دے سکتا ہے۔جب پے در پے اذانوں کی آوازیں آرہی ہوں تو پہلی اذان کا جواب دے دینا کافی ہے، اگر سب اذانوں کا جواب دے تو بہترہے۔ اذان کا جواب دینے والوں کی بھی کیاخوب بہاریں ہیں چُنانچِہ'' تاریخ دمشق جلد40 صفحہ412 پر ہے:حضرت