حضرتِ سیِّدُناعبد اﷲ بن احمد مُؤَذِّن رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: میں طوافِ کعبہ میں مشغول تھا کہ ایک شخص پر نظر پڑی جو غِلاف ِکعبہ سے لپٹ کر ایک ہی دُعا کی تکرار کررہا تھا:''یااللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے دنیا سے مسلمان ہی رُخصت کرنا۔''میں نے اُس سے پوچھا :اِس کے علاوہ کوئی اور دُعا کیوں نہیں مانگتے ؟ اُس نے کہا:میرے دوبھائی تھے،بڑا بھائی چالیس سال تک مسجِدمیں بِلا مُعاوَضہ اذان دیتا رہا۔جب اُس کی موت کا وقت آیا تو اُس نے قراٰنِ پاک مانگا، ہم نے اُسے دیا تاکہ اس سے بَرَکتیں حاصِل کرے، مگر قراٰن شریف ہاتھ میں لے کر وہ کہنے لگا:''تم سب گواہ ہوجاؤکہ میں قراٰن کے تمام اِعتِقادات واَحکامات سے بیزاری ظاہِر کرتا اورنَصرانی (عیسائی )مذہب اختیار کرتا ہوں۔ '' پھر وہ مرگیا۔اس کے بعد دوسرے بھائی نے تیس برس تک مسجِد میں فی سبیلِ اللہ عَزَّوَجَلَّ اذان دی۔ مگراُس نے بھی آخِری وَقت نَصرانی ہونے کا اعتِراف