| برے خاتمہ کے اسباب |
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! وہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ توفُضول گوئی کے خوف سے جائز جوابی کاروائی سے بھی پرہیز کریں اور ہم کسی کی بات کی جب وضاحتی کاروائی کرنے لگیں تو نہ غیبت چھوڑیں نہ چغلی، نہ عیب دری سے باز آئیں نہ الزام تراشی سے۔ ہائے! ہائے! ہمارا کیا بنے گا! اے اللہ عزوجل ہمیں عقلِ سلیم دے دے اور ہم گناہوں بھری گفتگو سے باز نہ آنے والوں کو حقیقی معنوں میں زبان کا قفلِ مدینہ نصیب فرما۔
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حکایت میں حسد کی نُحُوست کا بھی تذکرہ ہے۔افسوس! حسد کا مرض بھی بَہُت زِیادہ پھیل چکا ہے۔ حديث پاک میں آتاہے : ''حَسَد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کوکھا جاتی ہے۔''(سنن ابنِ ماجہ ج۴ ص ۴۷۳ حدیث ۴۲۱۰ دارالمعرفۃ بیروت)