زیادہ بولنے والے اور دُنیوی دوستوں کے جُھرمٹ میں رہنے والے کا غیبت اور بالخصوص چغلی سے بچنا بے حد دشوار ہے۔ آہ! آہ! آہ! حدیثِ پاک میں ہے: '' جس شخص کی گفتگو زیادہ ہو اس کی غَلَطیاں بھی زِیادہ ہوتی ہیں اورجس کی غَلَطیاں زیادہ ہوں اُس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں اور جس کے گناہ زیادہ ہوں وہ جہنَّم کے زیادہ لائق ہے۔'' (حلیۃ الاولیاء ج۳ ص۸۷۔۸۸ رقم ۳۲۷۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
نبیِّ اکرم، نُورِ مجَسَّم، شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ''اُس شخص کے لئے خوشخبری ہے جو زائد گفتگو کو روک لے اور مال میں سے زائد کو خرچ کرے۔''(المعجم الکبیر للطبرانی ج۵ ص۷۱۔۷۲ دار احیاء التراث العربی بیروت )
ایک صَحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کوئی شخص بعض اوقات مجھ سے کوئی ایسی بات کردیتا ہے کہ اُس کا جواب دینا مجھے اِس قَدَر پسند ہوتا ہے جس قَدَر پیاسے آدمی کو ٹھنڈا پانی بھی پسند نہیں ہوتا ہوگا۔ لیکن میں اِس بات سے ڈرتے ہوئے جواب دینے سے باز رہتا ہوں کہ کہیں یہ فضول کلام ہی نہ ہو۔