افسوس! اکثرلوگوں کی گفتگو میں آج کل غیبت و چغلی کا سلسلہ بَہُت زیادہ پایا جاتا ہے۔ دوستوں کی بیٹھک ہو یا مذہبی اجتماع کے بعد جمگھٹ، شادی کی تقریب ہو یا تعزِیت کی نشست، کسی سے مُلاقات ہو یا فون پربات، چند منٹ بھی اگر کسی سے گفتگوکی صورت بنے اور دینی معلومات رکھنے والا کوئی حسّاس فرد اگر اُس گفتگو کی ''تَشْخِیص''کرے تو شاید اکثر مجالس میں دیگر گناہوں بھرے الفاظ کے ساتھ ساتھ وہ درجنوں ''چُغلیاں'' بھی ثابِت کردے۔ ہائے! ہائے! ہمارا کیا بنے گا!!! ایک بار پھر اِس حدیثِ پاک پر غور کر لیجئے: ''چُغل خور جنّت میں نہیں جائے گا۔'' کاش! ہمیں حقیقی معنوں میں زَبان کا قفلِ مدینہ ۱؎ نصیب ہو جائے، کاش! ضَرورت کے سوا کوئی لفظ زَبان سے نہ نکلے،