Brailvi Books

بغض وکینہ
77 - 79
بدمذہبوں سے دینی یا دُنیاوی تعلیم نہ لی جائے
	بدمذہب سے دینی یا دُنیاوی تعلیم لینے کی مُمانَعَت کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :غیر مذہب والیوں ( یا والوں ) کی صُحبت آگ ہے، ذی عِلم عاقِل بالِغ مردوں کے مذہب(بھی) اس میں بگڑ گئے ہیں ۔ عمران بن حطان رقاشی کا قصّہ مشہور ہے، یہ تابِعین کے زمانہ میں ایک بڑامُحدِّث تھا ،خارِجی مذہب کی عورت کی صُحبت میں (رہ کر)مَعاذَاللہ خود خارِجی ہو گیا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ(اس سے شادی کر کے) اُسے سُنّی کرنا چاہتا ہے ۔(یہاں وہ نادان لوگ عبرت حاصِل کریں جو بَزُعمِ فاسِد خود کو بَہُت ’’پکّاسُنّی‘‘ تصوُّر کرتے اور کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے مسلک سے کوئی ہِلا نہیں سکتا، ہم بَہُت ہی مضبوط ہیں !) میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مزید فرماتے ہیں :جب صُحبت کی یہ حالت (کہ اتنا بڑا محدِّث گمراہ ہو گیا) تو (بدمذہب کو)اُستاد بنانا کس دَرَجہ بدتر ہے کہ اُستاد کا اثر بَہُت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہے ، تو غیر مذہب عورت( یا مرد) کی سِپُردگی یا شاگِردی میں اپنے بچّوں کو وُہی دے گا جو آپ( خودہی) دین سے واسِطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچّوں کے بَددین ہو جانے کی پرواہ نہیں رکھتا۔( فتاوٰی رضویہ، ۲۳/ ۶۹۲ملتقطاً)
محفوظ خدا رکھنا سدا بے ادَبوں سے
اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 			صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد