محبت رکھے اور اس کے سب دشمنوں (یعنی کافِروں ، بدمذہبوں ، بے دینوں اور مُرتَدوں )سے عداوت رکھے ۔ یہ ہمارا عین ایمان ہے ۔ {اسی تذکرہ میں فرمایا:} بِحَمْدِ اللہ تَعَالٰیمیں نے جب سے ہوش سنبھالا اللہ (عَزَّوَجَلَّ)کے سب دشمنوں سے دل میں سخت نفرت ہی پائی ۔ ایک بار اپنے دہات (دیہات)کو گیا تھا ، کوئی دیہی مقدمہ پیش آیا جس میں چوپال کے تمام ملازموں کو بدایوں جانا پڑا ، میں تنہا رہا ۔ اُس زمانے میں مَعَاذَ اللہدردِ قولنج(یعنی بڑی انتڑی کا درد) کے دورے ہُوا کرتے تھے۔ اس دن ظہر کے وَقْت سے درد شروع ہوا ،اسی حالت میں جس طر ح بَنا، وضو کیا ۔ اب نماز کو نہیں کھڑا ہوا جاتا ۔ ربّ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کی اور حضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے مدد مانگی ۔مولیٰ عَزَّوَجَلَّ مُضْطَر(یعنی پریشان) کی پکار سنتا ہے۔ میں نے سُنّتوں کی نیت باندھی ،درد بالکل نہ تھا۔ جب سلام پھیرا ،اسی شدت سے تھا ۔ فوراً اُٹھ کر فر ضو ں کی نیت باندھی ،درد جاتا رہا۔ جب سلام پھیراوہی حالت تھی۔ بعد کی سُنّتیں پڑھیں ، درد موقوف (یعنی ختم)اور سلام کے بعد پھر بدستور ، میں نے کہا : اب عصر تک ہوتا رہ ۔ پلنگ پرلیٹا کروٹیں لے رہا تھا کہ درد سے کسی پہلو قرار نہ تھا۔ اتنے میں سامنے سے اسی گاؤں کا ایک برہمن گزرا، پھاٹک کھلا ہوا تھا، مجھے دیکھ کر اندر آیا اور میرے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کیا یہاں درد ہے ؟مجھے اس کا نجس ہاتھ بدن کو لگنے سے اتنی کراہت ونفرت پیدا ہوئی کہ درد کو بھول گیا اور یہ تکلیف اس سے بڑھ کر