میری رحمت کو نہیں پاسکے گا جس نے میرے دوستوں کے ساتھ دوستی اور میرے دشمنوں کے ساتھ عداوت نہ رکھی۔
(المعجم الکبیر،باب الواو،۲۲/۵۹،الحدیث:۱۴۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بد مذہب کو کھانا نہیں کھلایا
حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نمازِ مغر ب پڑھ کر مسجد سے تشریف لائے تھے کہ ایک شخص نے آوازدی : ’’کون ہے کہ مسافر کو کھانا دے؟‘‘ امیر المؤمنینرضی اللہ تعالٰی عنہنے خادِم سے ارشاد فرمایا :’’اسے ہمراہ لے آؤ ۔‘‘وہ آیا تو اسے کھانا منگا کر دیا۔ مسافر نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ ایک لفظ اس کی زبان سے ایسا نکلا جس سے بد مذہبی کی بُو آتی تھی ،فوراً کھانا سامنے سے اُٹھوا لیا اور اسے نکال دیا ۔
(کنز العمال، کتاب العلم، قسم الافعال،۱۰/۱۱۷،الحدیث۲۹۳۸۴،ملخصًا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
جب ایک غیر مسلم نے اعلیٰ حضرت کے جسم پر ہاتھ رکھا
میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن ملفوظات شریف میں فرماتے ہیں :ہر مسلمان پر فرضِ اعظم ہے کہ اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے سب دوستوں (یعنی نبیوں ،صحابیوں اور ولیوں وغیرہ )سے