Brailvi Books

بغض وکینہ
73 - 79
کسی مسکین یا سائل کو کچھ دیا ہو یا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا ہو، زکوٰۃ تو ہر نیک و بد ادا کرتا ہے۔فریادی نے عرض کی :یا رسولَ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! ان سے پوچھئے ،کیا اُنہوں نے مجھے زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے دیکھا ہے؟یا میں نے کبھی اس میں ٹالَمْ ٹَول سے کام لیا ہے؟ دریافت کرنے پر اُنہوں نے عرض کی :نہیں ۔حُضُورپُر نورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُس( بُغض رکھنے والے) سے فرمایا :قُمْ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہٗ خَیْرٌ مِنْکَ  اٹھ جاؤ میں نہیں جانتا شاید یہی تم سے بہتر ہو۔(مُسند اِمام احمد،۹/۲۱۰،الحدیث۲۳۸۶۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 			صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کیا میرے محبوبوں سے محبت اور میرے دشمنوں سے عداوت بھی رکھی؟
	سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: قیامت کے دن ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو خود کو نیک سمجھتا ہوگا اور اُسے یہ گمان ہوگا کہ میرے نامہ اَعمال میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اس سے پوچھا جائے گا: کیا تُو میرے دوستوں سے دوستی رکھتا تھا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار عزوجل! تُو تو لوگوں سے سالم ومحفوظ (یعنی بے نیاز)ہے۔ پھر رب عظیم عزوجل فرمائے گا: کیا تُو میرے دشمنوں سے عَداوت رکھتا تھا؟ تو وہ عرض کرے گا: اے میرے مالک ومختار عزوجل! میں یہ پسند نہیں کرتا تھا کہ میرے اور کسی کے درمیان کچھ ہو،تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا: لَا یَنَالُ رَحْمَتِیْ مَنْ لَمْ یُوَالِ اَوْلِیَائِیْ وَیُعَادِیْ اَعْدَائِییعنی :وہ