نفسانی وسوسوں اور طبعی کدورتوں سے پاک وصاف ہیں بلکہ توفیق کے نو ر سے روشن ہیں تو پھر وہ سب آپس میں بھائی بھائی بن گئے ۔)(عوارف المعارف ص ۳۴ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کینے کی مزید صورتیں
اگر اللہعَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے کسی سے کینہ رکھا مثلاًکوئی شخص کمزوروں پر ظُلْم ڈھاتا ہے،قتل وغارت کرتا ہے، لوگوں کو گناہوں کی راہ پر چلاتا ہے یا وہ غیر مسلم یابدمذہب ہے تو ایسے سے کینہ رکھنا جائز ومحمود ہے ۔اس بات کو درجِ ذیل روایات وحکایات سے سمجھنے کی کوشش کیجئے، چنانچہ
افضل عمل
حضرتِ سیِّدُنا ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاکصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں:اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ الْحُبُّ فِی اللہِ وَالْـبُغْضُ فِی اللہِ یعنی سب سے بہترعمل اللہعَزَّوَجَلَّ کے لیے محبت کرنا اوراللہعَزَّوَجَلَّکے لیے دُشمنی کرنا ہے۔
(سنن أبی داوٗد،کتاب السنۃ،باب مجانبۃ اھل الأھواء وبغضھم،۴/۲۶۴،الحدیث:۴۵۹۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہعَزَّوَجَلَّ کے لئے محبت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے اس لئے محبت کی جائے کہ وہ دیندار ہے اور اللہعَزَّوَجَلَّکیلئے عداوت کا مطلب یہ ہے کہ کسی سے عداوت ہو تو اس بنا پر ہو کہ وہ دین کا دشمن ہے یا دیندار نہیں۔(نزھۃ القاری،۱/۲۹۵)