گی۔ ہر ایک کو دین و ایمان کی لگن لگ جائے گی محبتِ دُنیا ان سب کی جڑ ہے جب جڑ ہی کٹ گئی تو شاخیں کیسے رہیں ۔(مراٰۃ المناجیح، ۷/۳۳۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اہل جنت کے درمیان کینہ نہیں ہوگا
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اہل جنت کی تعریف اس طرح فرمائی ہے :
وَنَزَعْنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنْ غِلٍّ اِخْوٰنًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۴۷﴾
(پ ۱۴،الحجر ۴۷)
ترجمہ کنزالایمان :اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے ۔
رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : لَا اِخْتِلَافَ بَیْنَہُمْ وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُہُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ یُسَبِّحُوْنَ اللہَ بُکْرَۃً وَّعَشِیًّایعنی اہل جنت میں آپس میں اختلاف ہوگا نہ بغض و کدورت! سب کے دل ایک ہوں گے صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کریں گے۔
(صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی صفۃ الجنۃوانہا مخلوقۃ، ۲/۳۹۱،الحدیث۳۲۴۵)
کینہ وحسد کیونکر باقی رہ سکتا ہے!
حضرت سیدنا ابو حفص رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ جو قلوب اللہ تعالیٰ کی محبت سے مالُوف اور اس کی محبت پر مُتَّفِق اور اس کی مُوَدَّت پر مجتمع اور اس کے ذکر سے مانوس ہوگئے ہیں ان میں کینہ اور حسد کس طرح باقی رہ سکتا ہے، بیشک یہ