کہیں ہم غلط فہمی میں نہ ہوں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی سے بغض وکینہ رکھنے سے پہلے خوب اچھی طرح غور کرلینا چاہیے کہ کیا ہم واقعی جوازی صورت پر ہی عمل کررہے ہیں ؟ کہیں ہم غلط فہمی میں تو مبتلاء نہیں ! اس بات کو درج ذیل روایت سے سمجھنے کی کوشش کیجئے:
حضرتِ سیِّدُنا عامر بن وَاثِلَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ( محبوبِ ربِّ کائنات، شَہَنْشاہ موجودات صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی حیاتِ ظاہری میں ) ایک صاحِب کسی قوم کے پاس سے گزرے تو انہوں نے انہیں سلام کیا،ان لوگوں نے سلام کا جواب دیا۔ جب وہ صاحِب وہاں سے تشریف لے گئے تو ان میں سے ایک شخص نے ان صاحِب کے بارے میں کہا :’’میں اللہ تعالیٰ کے لئے اس شخص سے بُغضرکھتا ہوں ۔‘‘ اہلِ مجلس نے اس سے کہا کہ تم نے بہت بری بات کی ہے بخدا!ہم اسے یہ بات ضروربتائیں گے ، پھر ایک آدمی سے کہا کہ اے فلاں !کھڑا ہو اور جا کر اسے یہ بات بتا دے، چنانچہ قاصد نے اسے پالیا اور یہ بات بتا دی ۔وہ صاحب وہاں سے پلٹ کر رسولِ ثَقَلَین ، سلطانِ کونَین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کرعرض گزارہوئے :یا رسولَ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!مسلمانوں کی ایک مجلس پر میرا گزر ہوا میں نے انہیں سلام کیا ان میں فلاں آدمی بھی تھا ان سب نے میرے سلام کا جواب دیا جب میں آگے بڑھ گیا تو ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ فلاں آدمی کا یہ کہنا ہے کہ میں اس سے بُغْضٌ فِی اللہ