Brailvi Books

بغض وکینہ
64 - 79
 جوناگوار گزرتی تو اُس کا پردہ رکھتے ہوئے اُس کی اصلاح کا یہ حسین انداز ہوتاکہ ارشاد فرماتے :مَا بَالُ اَقْوَامٍ یَقُوْلُوْنَ کَذَا وَکَذَا یعنی لوگوں کو کیا ہو گیاجو ایسی بات کہتے ہیں ۔
(سُنَن ابی داوٗد،کتا ب الادب ،باب فی حسن العشرۃ،۴/۳۲۸ الحدیث۴۷۸۸)
    کاش!ہمیں بھی اِصلاح کا ڈھنگ آ جائے، ہمارا تو اکثر یہ حال ہو تا ہے کہ اگر کسی کو سمجھانا بھی ہو تو بِلاضَرورتِ شرعی سب کے سامنے نام لیکر یا اُسی کی طرف دیکھ کر اِس طرح سمجھائیں گے کہ بے چارے کی پَولیں بھی کھول کر رکھ دیں گے۔ اپنے ضمیر سے پوچھ لیجئے کہ یہ سمجھانا ہوا یا اگلے کو ذلیل (DEGRADE)کرنا ہوا ؟ اِس طرح سُدھار پیدا ہوگا یا مزید بگاڑبڑھے گا ؟ یاد رکھئے!اگر ہمارے رُعب سے سامنے والا چپ ہو گیا یا مان گیا تب بھی اُس کے دل میں ناگواری سی رہ جائے گی جو کہ بُغض و کینہ غیبت و تہمت وغیرہ کے دروازے کھول سکتی ہے ۔ حضرتِ سیِّدَتنا اُمِّ درداء رضی اللہ تعالٰی عنہافرماتی ہیں :جس کسی نے اپنے بھائی کو اِعلانیہ نصیحت کی اُس نے اُسے عیب لگایا اور جس نے چپکے سے کی تو اُسے زینت بخشی۔(شُعَبُ الْاِیمان،باب فی التعاون علی البروالتقوٰی ، ۶/ ۱۱۲،الرقم۷۶۴۱)البتّہ اگر پوشیدہ نصیحت نفع نہ دے تو پھر (موقع اور منصب کی مُناسَبَت سے )اِعلانیہ نصیحت کرے۔   (تَنبِیہُ الْغافِلین ص۴۹)(غیبت کی تباہ کاریا ں ص۱۶۰)
(7)رشتے پر رشتہ نہ بھیجئے
	بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دوگھرانوں کے درمیان رشتے کی بات چل