حضرات حُکمِ قراٰنی ، اِدْفَعْ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ (ترجَمۂ کنزُالایمان : بُرائی کو بھلائی سے ٹال( پ ۲۴ حٰم السجدہ ۳۴) کی صحیح تفسیر تھے ،بار بار زہر پلانے والی کنیز کو سزادِلوانے کے بجائے آزاد فرما دیا!
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کینہ رکھنے والے سے بھی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے
عقلمند انسان چشم پوشی کرنے والے دوست سے زیادہ کینہ پَرْوَر دشمن سے نفع حاصل کرسکتا ہے۔اس کا طریقہ بیان کرتے ہوئے امام غزالی علیہ رحمۃ اللہِ الوالیلکھتے ہیں:اپنے دشمنوں سے اپنے عیوب سُنے کیونکہ دشمن کی آنکھ ہر عیب کو ظاہر کردیتی ہے، عقلمند انسان کینہ پَرْوَر دشمن سے اپنے عیوب سن کر ایسے چشم پوشی کرنے والے دوست سے زیادہ نفع حاصل کرسکتا ہے جو اس کی تعریف و توصیف کرتا رہتا ہے اور اس کے عیب چھپاتا رہتا ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ انسانی طبائع دشمن کی بات کو جھوٹ اور حَسَد پر مَبنی خیال کرتی ہیں لیکن عقلمند دشمنوں کی باتوں سے بھی سبق سیکھتے ہیں اور اپنے عیوب کی تلافی کرتے ہیں کہ آخر کوئی عیب تو ضرور ہے جو اس کے دشمنوں کی نگاہ میں ہے۔
(مکاشفۃ القلوب،الباب السادس والسبعون، ص۲۵۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد