مجھے آپ سے بُغْض تھا
مشہورصَحابی حضرتِ سیِّدُناابوالدّرْدا رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کنیز نے ایک دن عَرْض کی: حُضور! سچ بتایئے کہ آپ انسان ہیں یا جِنّ؟ فرمایا :اَ لْحَمْدُ للّٰہعَزَّوَجَلَّ! میں اِنسان ہی ہوں ۔ کہنے لگی : مجھے تو انسان نہیں لگتے کیوں کہ میں چالیس دن سے لگاتار آپ کو زہرکھلا رہی ہوں مگر آپ کا بال تک بِیکا نہیں ہوا ! فرمایا : کیا تجھے معلوم نہیں جو لوگ ہر حال میں ذکْرُ اﷲ عَزَّوَجَلَّ کرتے رہتے ہیں اُن کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور میں اِسمِ اعظم کے ساتھ اللہعَزَّوَجَلَّ کا ذِکْر کرتا ہوں ۔ پوچھا:وہ اِسمِ اعظم کونسا ہے؟ فرمایا (میں ہر بار کھانے پینے سے قبل یہ پڑھ لیا کرتا ہوں ):بِسْمِ اﷲِالَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَ رْضِ وَ لَا فِی السَّمائِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم۔(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے شروع کرتا ہوں جس کے نام کی بَرَکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیزنقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سُننے والا جاننے والا ہے)
اِس کے بعدآپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اِسْتِفسا ر فرمایا : تُو نے کس وجہ سے مجھے زہر دیا ؟ عَرْض کی: مجھے آپ سے بُغْض تھا۔ یہ جواب سنتے ہی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہنے فرمایا ، تُو لِوَجْہِ اﷲ( یعنی اللہعَزَّوَجَلَّ کیلئے)آزاد ہے اور تُو نے میرے ساتھ جو کچھ کیا وہ بھی میں نے تجھے مُعاف کیا۔(حَیاۃُ الحَیوان الکُبرٰی ،۱/۳۹۱)
سُبحٰنَ اﷲ !صَحابۂ کِرام عَلَیہُمُ الرِّضْوَان کی عظمتوں کے کیا کہنے ! یہ