Brailvi Books

بغض وکینہ
59 - 79
ایساصَبْر فرماتے تھے کہ بالآخر سامنے والا شرمندہ ہوکر بُغْض وکینہ سے رہا ہوکر ان کی محبت واُلفت میں گرفتار ہوجاتا تھا۔بطورِ مثال ایک حکایت ملاحظہ کیجئے : چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہ الغفّار نے ایک مکان کرائے پر لیا ۔ اُس مکان کے بالکل مُتَّصِل ایک یہودی کا مکان تھا۔وہ یہودی بُغض وعِناد کی بنیاد پرپرنالے کے ذَرِیعے گندا پانی او رغَلاظت آپ رَحمَۃُ اللہِ تعالی علیہ کے کاشانہ عظمت میں ڈالتا رہتا مگر آپ رَحمَۃُ اللہِ تعالٰی علیہ خاموش ہی رَہتے۔ آخرِکا ر ایک دن اُس نے خود ہی آکر عَرض کی :جناب !میرے پرنالے سے گرنے والی نَجاست کی وجہ سے آپ کوکوئی شکایت تو نہیں ؟ آپ رَحمَۃُ اللہِ تعالی علیہ نے نہا یت ہی نرمی کے ساتھ فرمایا  : پرنالے سے جو گندَگی گر تی ہے اُس کو جھاڑودے کر دھوڈالتا ہوں۔ اس نے کہا : آپ کو اتنی تکلیف ہونے کے با وُجُود غُصّہ نہیں آتا؟ فرمایا:آتا تو ہے مگر پی جاتا ہوں کیونکہ خدائے رحمنعَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ محبت نشان ہے : وَالْکٰظِمِیۡنَ الْغَیۡظَ وَالْعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ﴿۱۳۴﴾ۚ (پ  ۴،اٰل عمران:۱۳۴) (ترجَمہ کنزالایمان : اور غصّہ پینے والے او رلوگو ں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ  اللہ کے محبوب ہیں ۔)یہ جواب سن کر وہ یہودی مسلمان ہوگیا۔ (تذکِرۃُ الاولیاء ص۵۱)
نگاہِ ولی میں وہ تا ثیر دیکھی
بدلتی ہزارو ں کی تقدیر دیکھی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 			صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد