دشمنی کو دوستی میں بدلنے کی کوشش کیجئے ۔حضرت سَیِّدُنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہِ الوالی لکھتے ہیں : جس کے ساتھ کینہ بَرتاگیا اس کی تین حالتیں ہیں : (۱) اس کا وہ حق پورا کیا جائے جس کا وہ مستحق ہے اور اس میں کسی قسم کی کمی زیادتی نہ کی جائے اسے عَدل کہتے ہیں اوریہ صالحین کا انتہائی درجہ ہے ۔(۲) عَفْو ودرگزر اور حُسنِ سُلوک کے ذریعے اس کے ساتھ نیکی کی جائے یہ صِدِّیْقِین کاطرزعمل ہے۔(۳) اس کے ساتھ ایسی زیادتی کرنا جس کا وہ مستحق نہیں یہ ظُلْم ہے اورکمینے لوگوں کا طریقہ ہے۔
(احیاء العلو م، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد،۳/ ۲۲۴ )
بچالو! نارِ دوزخ سے بچارے حاسدوں کو بھی
میں کیوں چاہوں کسی کی بھی بُرائی یارسولَ اللہ
(وسائل بخشش ص ۲۴۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
فتح مکہ کے دن عام معافی کا اعلان کردیا
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ869 صفحات پر مشتمل کتاب ’’سیرتِ مصطَفیٰ ‘‘کے صفحہ438پرہے:فتح مکہ کے بعد تاجدارِ دوعالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے شہنشاہ اسلام کی حیثیت سے حرمِ الٰہی میں سب سے پہلا دربارِعام منعقد فرمایا جس میں افواجِ اسلام کے علاوہ ہزاروں کفارومشرکین کے خواص و عوام کا ایک زبردست اِزدحام(یعنی ہجوم) تھا۔ شہنشاہ کونین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس ہزاروں کے مجمع میں ایک گہری نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ سرجھکائے،