نگاہیں نیچی کئے ہوئے لَرزاں و تَرساں اشرافِ قریش کھڑے ہوئے ہیں ۔ ان ظالموں اور جفاکاروں میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے راستوں میں کانٹے بچھائے تھے۔ وہ لوگ بھی تھے جو بارہا آپ پر پتھروں کی بارش کرچکے تھے۔ وہ خونخوار بھی تھے جنہوں نے بار بار آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر قاتلانہ حملے کئے تھے۔ وہ بے رحم و بے درد بھی تھے جنہوں نے آپ کے دندانِ مبارک کو شہید اور آپ کے چہرئہ انور کو لہولہان کر ڈالا تھا۔ وہ اوباش بھی تھے جو برسہابرس تک اپنی بہتان تراشیوں اور شرمناک گالیوں سے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قلبِ مبارک کو زخمی کرچکے تھے۔ وہ سفاک و درندہ صفت بھی تھے جو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے گلے میں چادر کا پھندا ڈال کر آپ کا گلا گھونٹ چکے تھے۔ وہ ظُلْم و ستم کے مجسمے اور پاپ کے پتلے بھی تھے جنہوں نے آپ کی صاحبزادی حضرت(سیِّدَتُنا) زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا کو نیزہ مار کر اونٹ سے گرا دیا تھا اور ان کا حمل ساقِط ہوگیا تھا۔ وہ آپ کے خون کے پیاسے بھی تھے جن کی تشنہ لبی اور پیاس خونِ نبوت کے سوا کسی چیز سے نہیں بجھ سکتی تھی۔ وہ جفاکار و خونخوار بھی تھے جن کے جارحانہ حملوں اور ظالمانہ یلغار سے بار بار مدینہ منورہ کے درودیوار دہل چکے تھے۔ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قاتل اور ان کی ناک، کان کاٹنے والے، ان کی آنکھیں پھوڑنے والے، ان کا جگر چبانے والے بھی اس مجمع میں موجود تھے وہ ستم گار جنہوں نے شمع نبوت کے جاں نثارپروانوں