Brailvi Books

بغض وکینہ
52 - 79
 جب تک اس کے ڈوبنے کا یقین نہیں ہوگیا ۔ پھر وہ گھر واپس لوٹ آیا اور دل ہی دل میں خوش تھا کہ اب سب صرف اور صرف مجھے پیار کیا کریں گے ۔جب گھر والوں کو بچی کہیں دِکھائی نہ دی تو اس کی تلاش شروع ہوئی۔اِعلانات کروائے گئے ،شہر کا چپہ چپہ چھان مارا مگر بچی نہ ملی ۔ پولیس کو بھی اِطلاع دے دی گئی ۔تفتیش شروع ہوئی تو تیسرے ہی روز بچے نے راز اُگل دیا کہ کس طرح اور کس وجہ سے اس نے اپنی چھوٹی بہن کو موت کے گھاٹ اُتارا تھا ۔جس نے بھی سُناوہ سکتے میں آگیا ،والدین پر تو گویا قیامت ٹوٹ پڑی تھی ، بیٹی تو دُنیا سے جاہی چکی تھی اب بیٹا بھی سلاخوں کے پیچھے جاتادکھائی دے رہا تھا لہٰذا اُسے معاف کرکے قانون سے رہائی دِلوا دی گئی ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 			صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اگر کوئی ہم سے کینہ رکھتا ہوتو کیا کرنا چاہئے؟
	بعض اوقات کسی اسلامی بھائی کو سُنی سنائی باتوں کی بنیاد پر یہ خیال ستانے لگتا ہے کہ فلاں شخص مجھ سے کینہ رکھتا ہے یا حَسَد کرتا ہے حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا محض اس کی بدگمانی یا وہم ہوتا ہے ۔کیونکہ کینہ ہویا حَسَد !اس کا تعلُّق باطِن سے ہے اور کسی کی باطِنی کیفیات کا یقینی پتا چلانا ہمارے اِختیار میں نہیں ہے ۔اس لئے حسنِ ظن کی عادت بنالی جائے کہ حسنِ ظن میں کوئی نقصان نہیں اور بدگمانی میں کوئی فائدہ نہیں ۔ ہاں ! اگر کسی کی حرکات وسکنات اور بُرے سلوک سے آپ کو واضح طور پر محسوس ہو کہ یہ مجھ سے کینہ رکھتا ہے تو بھی عَفْوودرگزر سے کام لیجئے اور حسنِ سلوک سے اس کی