Brailvi Books

بغض وکینہ
49 - 79
کی وجہ سے اپنی آخرت برباد کرلینا دانشمندی ہے ؟ ایک سبق آموز روایت ملاحظہ کیجئے: چنانچہ حضرت سَیِّدُنا  عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہمانے ارشاد فرمایا: ’’بروزِقیامت دُنیاکوایک بد صورت نیلی آنکھوں والی بوڑھی عورت کے روپ میں لایا جائے گاجس کے (ڈرا ؤنے ) دانت نظرآرہے ہوں گے اوروہ تمام انسانوں کے سامنے ہوجائے گی ، اُن سے پوچھاجائے گا :’’کیا تم اس کو جانتے ہو؟‘‘وہ جواب دیں گے :’’ہم اس کی پہچان سے اللہعَزَّوَجَلَّ  کی پناہ مانگتے ہیں ۔‘‘توکہاجائے گا : ’’یہی وہ دُنیا ہے جسے حاصل کرنے کے لئے تم ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے ، اس کو پانے کے لئے قطع رحمی(یعنی رشتے داری توڑدیا) کرتے تھے ،اس کی خاطرایک دوسرے پر غروراور حَسَدکرتے تھے اوراسی کے لئے ایک دوسرے سے بُغْض رکھتے تھے ۔‘‘پھردُنیاکوبوڑھی عورت کے روپ میں جہنم میں ڈال دیاجائے گاتووہ کہے گی:’’یااللہعَزَّوَجَلَّ ! میرے چاہنے والے،میرے پیچھے آنے والے کہاں گئے ؟ ‘‘ تواللہعَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:’’اس کے پیچھے بھاگنے والوں اورچاہنے والوں کوبھی اس کے پاس( جہنم میں ) پہنچا دو۔‘‘   (شعب الایمان للبیہقی۷/۳۸۳،حدیث:۱۰۶۷۱)

نہ ہوں اشک برباد دُنیا کے غم میں
محمد کے غم میں رُلا یاالٰہی
(وسائل بخشش ص ۷۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 				صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد