اپنے بچوں کو بھی بُغْض وکینے سے بچائیے
شہنشاہِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے : بے شک اللہتبارک وتعالیٰ پسند کرتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے درمیان برابری کا سلوک کرو حتّٰی کہ بوسہ لینے میں بھی (برابری کرو)۔(الجامع الصغیر، ص۱۱۷حدیث۱۸۹۵)
ماں باپ کو چاہیے کہ ایک سے زائد بچے ہونے کی صورت میں انہیں کوئی چیز دینے اورپیار محبت اور شفقت میں برابری کا اصول اپنائیں ۔بلاوجہِ شرعی کسی بچے بالخصوص بیٹی کو نظر انداز کر کے دوسرے کو اس پر ترجیح نہ دیں کہ اس سے بچوں کے نازُک قلوب پر بُغْض وحَسَد کی تہہ جم سکتی ہے جو ان کی شخصی تعمیر کے لئے نہایت نقصان دہ ہے ۔ معلمِ اخلاق صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں اولاد میں سے ہر ایک کے ساتھ مُساوی سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والدرضی اللہ تعالٰی عنہ نے مجھے اپنا کچھ مال دیا تو میری والدہ حضرت عمرہ بنتِ رواحہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا :میں اس وَقْت تک راضی نہ ہوں گی جب تک کہ آپ اس پر رسولاللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو گواہ نہ کر لیں ۔ چنانچہ میرے والد مجھے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی بارگاہ میں لے گئے تاکہ آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مجھے دئیے گئے صدقے پر گواہ کر لیں ۔ سرورِ کونینصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان سے پوچھا : کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے ؟میرے والد محترم رضی اللہ تعالٰی عنہ