Brailvi Books

بغض وکینہ
47 - 79
 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یہ دونوں عمل بہت ہی مُجَرَّب(یعنی تجربہ شدہ) ہیں جس سے مصافحہ کرتے رہو اس سے دشمنی نہیں ہوتی ۔ اگر اتفاقاً کبھی ہو بھی جائے تو اس کی برکت سے ٹھہرتی نہیں ۔یونہی ایک دوسرے کو ہدیہ دینے سے عداوتیں ختم ہوجاتی ہیں ۔(مراٰۃ المناجیح،۶/۳۶۸)
مدنی پھول:	مُصافَحَہ کرتے (یعنی ہاتھ ملاتے) وَقْت سنّت یہ ہے کہ ہاتھ میں رُومال وغیرہ حائل نہ ہو، دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں اور ہتھیلی سے ہتھیلی ملنی چاہئے۔ 
(بہارِ شریعت، ج۳، حصہ۱۶،ص۴۷۱ ملخصًا) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 			صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۴)بے جا سوچناچھوڑ دیجئے
    بعض حُکَماء کا قول ہے:’’تین چیزوں میں غور نہ کر(۱) اپنی مفلِسی و تنگدستی (اور مصیبت)پر ،اس لئے کہ اس میں غور کرتے رہنے سے تیرے غم (اورٹینشن )میں اِضافہ اور حرص میں زیادَتی ہوگی(۲)تیرے اوپرظُلْم کرنے والے کے ظُلْم پر غور نہ کرکہ اِس سے تیرے دل میں کینہ بڑھے گااور غصّہ باقی رہے گا (۳)دُنیا میں زِیادہ دیر زندہ رہنے کے بارے میں نہ سوچ کہ اس طرح تو مال جَمع کرنے میں اپنی عُمر ضائِع کردے گااور عمل کے ُعامَلے میں ٹا لَم ٹَول( ٹالَمْ۔ ٹو ل ) سے کام لے گا۔‘‘لہٰذا ہمیں چاہئے کہ دُنیوی تَفکُّرات ( تَ ۔فَکْ ۔ کُرات)میں جان کَھپانے کے بجائے آخِرت  کے