عَرْض کی:’’خیروبھلائی کے ساتھ۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’آج تم بہتر ہو (اس وَقْت سے کہ)جب تمہارے پاس صبح کھانے کا ایک بڑا پیالہ اور شام دوسرا بڑا پیالہ لایا جائے گا اوراپنے گھروں پراس طرح پردے لٹکاؤگے جس طرح کعبے پر غلاف ڈالے جاتے ہیں۔‘‘اصحابِ صفہ۱؎ رضی اللہ تعالٰی عنہم عَرْض گزار ہوئے:’’ یا رسولَ اللہصلَّی اللہ تعالی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! کیاہمیں اپنے دین پرقائم رہتے ہوئے یہ نعمتیں حاصل ہوں گی؟‘‘ فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ عَرْض کی:’’پھرتوہم اس وَقْت بہترہوں گے کیونکہ ہم صدقہ وخیرات کریں گے اور غلاموں کوآزاد کریں گے۔‘‘آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: لَا بَلْ اَنْتُمُ الْیَوْمَ خَیْرٌ اِنَّکُمْ اِذَا طَلَبْتُمُوْہَا تَقَاطَعْتُمْ وَتَحَاسَدْتُمْ وَتَدَابَرْتُمْ وَتَبَاغَضْتُمْ نہیں! بلکہ تم آج بہتر ہو کیونکہ جب تم ان نعمتوں کو پاؤ گے تو آپس میں حَسَد کرنے لگو گے،باہم قَطع تعلقی کرنے کی آفت اور بُغْض وعداوت میں پڑجاؤ گے۔
(الزھد لہناد بن السری ، باب معیشۃ اصحاب النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم ، ۲/۳۹۰،الحدیث۷۶۰ وحلیۃ الاولیاء،۱/۴۱۶،حدیث:۱۲۰۲)
مــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ
۱؎:صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا معمول تھا کہ ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ معلّمِ اعظمصَلَّی اللہُ تعالی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہوکر علمِ دین بھی حاصل کیا کرتے تھے۔مگر مختلف علاقوں سے تعلُّق رکھنے والے 60سے 70 صحابہ کرام ایسے تھے جو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کے درِاقدس پر پڑے رہتے اور آپ صَلَّی اللہُ تعالی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی صحبت میں رہ کر علمِ دین سیکھا کرتے تھے۔ ان کی رہائش ایک چھنے ہوئے چبوترے میں تھی جسے عربی میں صُفَّہ کہتے ہیں لہذا !ان نفوسِ قدسیہ کو اصحاب ِ صُفّہ کہا جاتا تھا ۔ سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تعالی عَنْہُ بھی ان خوش نصیبوں میں شامل تھے۔رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تعالی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمان کے اخراجات کے کفیل تھے ۔(ماخوذ از مرأۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ، ۷/ ۳۵)