کوسوں دور رہئے کہ قرآن پاک میں ان دونوں چیزوں کو کینہ کا سبب قرار دیا گیا ہے چنانچہ پارہ7 سُوْرَۃُ الْمَائِدَۃکی آیات نمبر 90تا91میںاللہُ رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزْلٰمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجْتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾ اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الْعَدٰوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیۡسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلْ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ ﴿۹۱﴾
ترجَمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو! شراب اور جُوااور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوادے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے؟
حضرتِ صدر الْا فاضِل سیِّدُنا مولانا محمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃُ اللہِ الہادیخَزائنُ العرفانمیں اس کے تحت لکھتے ہیں:اِس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وَبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خوری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جواِن بدیوں(یعنی برائیوں) میں مبتَلا ہو وہ ذِکرِ الٰہی اورنَماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔
(کنزالایمان مع خزائن العرفان، ص۲۳۶ مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)