Brailvi Books

بغض وکینہ
35 - 79
جنّتی آدمی
	حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر تھے کہ آپ  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ’’یَطْلُعُ عَلَیْکُمُ الْاٰنَ مِنْ ہٰذَا الْفَجِّ رَجُلٌ مِّنْ اَہْلِ الْجَنَّۃِ ‘‘  ابھی تمہارے پاس اس راستے سے ایک جنتی آدمی آئے گا۔ اسی وقت ایک انصاری صاحب وہاں آئے جن کی داڑھی وضو کے پانی سے تَر تھی، انہوں نے بائیں ہاتھ میں اپنی جوتیاں اٹھا رکھی تھیں ۔ دوسرے دن پھر نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پہلے دن کی طرح ارشاد فرمایا اور وہی شخص آئے، تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عَمرو  رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس اَنصاری کے پاس پہنچا اور پوچھا: کیا آپ میری مہمان نوازی کرسکتے ہیں ؟انہوں نے ہامی بھر لی اورمجھے اپنے ساتھ لے گئے۔میں تین راتیں ان کے پاس رہا ،اس دوران میں نے انہیں رات کو قیام کرتے (یعنی نوافل ادا کرتے ہوئے ) نہیں دیکھا،ہاں ! یہ ضرور دیکھا کہ جب وہ بستر پر کروٹیں بدلتے توذکرُ اللہ کرتے یہاں تک کہ نماز فجر کا وقت ہوجاتا اور وہ اچھی بات کرتے یا خاموش رہتے ۔جب تین راتیں اسی طرح گزر گئیں تو میں نے ان کے عمل کو کم جاناچنانچِہ میں نے ان سے کہا کہ میں نے سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’یَطْلُعُ عَلَیْکُمُ الْاٰنَ رَجُلٌ مِّنْ اَہْلِ الْجَنَّۃِ  ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا ‘‘پھر تینوں