Brailvi Books

بغض وکینہ
34 - 79
تمہارے دل میں کسی کے لئے کینہ وبُغْض نہ ہو
	حضرت سیِّدُنااَنَس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :تاجدارِمدینہ، راحت ِقلب وسینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے مجھ سے ارشاد فرمایا: یَا بُنَیَّ! اِنْ قَدِرْتَ اَنْ تُصْبِحَ وَ تُمْسِیَ  لَیْسَ فِیْ قَلْبِکَ غِشٌّ لِاَحَدٍ فَافْعَلْ اے میرے بیٹے ! اگرتم سے ہوسکے کہ تمہاری صبح وشام ایسی حالت میں ہوکہ تمہارے دل میں کسی کے لئے کینہ وبُغْض نہ ہوتوایسا ہی کیا کرو ۔(ترمذی،کتاب العلم،۴/۳۰۹،الحدیث:۲۶۸۷)
	یعنی مسلمان بھائی کی طرف سے دُنیوی امور میں صاف دل ہو سینہ کینہ سے پاک ہو تب اس میں اَنوارِ مدینہ آئیں گے۔ دُھند لا آئینہ اور میلا دل قابلِ عزت نہیں ۔(مراۃ المناجیح ، ۱/۱۷۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 			صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
افضل کون؟
	 حضرت عبداﷲ ابن عمرورضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عَرْض کی گئی کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ فرمایا: ہر سلامت دل والا ، سچی زبان والا۔ لوگوں نے عَرْض کی: سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں ،یہ سلامت دل والا کیا ہے ؟فرمایا:ہُوَ التَّقِیُّ النَّقِیُّ لَا اِثْمَ فِیْہِ وَ لَا بَغْیَ وَلَا غِلَّ وَ لَاحَسَدَ یعنی وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حَسَد۔
(سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب الورع،۴/۴۷۵،الحدیث:۴۲۱۶)